حجة الاسلام والمسلمین سید علی خاتمی کی علمی سائید     

                                     

هماری سائید مین آنی کا شکریه                                      اللهم کن لولیک الحجه ابن الحسن صلواتک علیه و علی آبائه فی هذه الساعه و فی کل ساعه ولیا و حافظا و قائدا وناصرا ودلیلا و عینا حتی تسکنه ارضک طوعا و تمتعه فیها طویلا      

مناسبتین

 

سائید کی خبرین

تنظیم کا وقت

سه شنبه25 فروردین 1390

همارا Yahoo ایدرس

 

قيام  عاشورا  سے درس

عاشورا حسيني حق و باطل کے درميان  ٹکراؤ کا مظہر تھا جس ميں ايماني لشکر،   کافروں کے لشکر کے روبرو تھا - کربلا ميں پيش آنے والا يہ واقعہ کوئي معمولي واقعہ نہيں جو وقت کے ساتھ کم اہميت ہو جاۓ يا جسے لوگ بھول جائيں  بلکہ يہ ايک قيام الہي تھا کہ جيسے جيسے وقت گزرتا جاۓ يہ اور بھي زيادہ  دنيا ميں بسنے والے انسانوں کے ليۓ روشن  ہوتا جاۓ گا اور يہ قيامت تک زندہ رہے گا -

 حضرت امام حسين عليہ السلام ايک عظيم شخصيت کے مالک تھے - ايک ايسي ہستي جس کي پروان نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے خاندان ميں ہوئي اور جس کي تربيت  حضرت علي عليہ السلام کے  زير سايہ اور دامن صديقھ طاہرہ ( س ) ميں ہوئي - اس عظيم ہستي نے ظلم و جبر کے خلاف کھڑے ہو کر رہتي دنيا  تک کے انسانوں کے ليۓ ايک عظيم سبق چھوڑا ہے جسے ہميشہ ياد رکھا جاۓ گا -

قيام حسيني  کے بارے ميں مخلتف  جہتوں سے بات کي جا سکتي ہے مگر ہم يہاں پر اس واقعہ سے ملنے والے سبق اور پيغام پر مختصر بات کريں گے -

1- پيغام آزادگي

يہاں پر آزادگي سے مراد اخلاقي  قيد  و بند سے رہائي نہيں ،حقيقت ميں يہ آزادگي کي وہ قسم ہے جس سے مراد  نفس کي بندگي ہے بلکہ اس کا مقصد يہ ہے کہ انسان ظلم کے دباؤ کا شکار نہ ہو اور ظالموں کے آگے خود کو تسليم خم نہ کرے - انسان کو مکمل سرفرازي اور آزادگي کے ساتھ زندگي گزارنے کا حق  حاصل ہے  اور اپنے حق کو حاصل کرنے کے ليۓ ہر طرح کے ظلم کے خلاف ڈٹ جانا چاہيے -  حضرت امام حسين عليہ السلام  نے  اپني تمام زندگي عزت اور سرفرازي کے ساتھ گزاري اور وہ جواني سے ہي اپني ان خصوصيات کي وجہ سے مشہور تھے اور انہيں  " اياۃ الضيم " ( يعني ايسے افراد جو ظلم کے نيچے نہيں دبتے ) شمار کيا جاتا تھا - (1)

 عزت و آزادگي کے متعلق  حضرت امام حسين عليہ السلام کا  ايک قول ہے کہ

 " موت في عز خير من حياۃ في الذل "  (2)

ترجمہ : عزت کے ساتھ موت ذليل زندگي سے بہتر ہے -

وہ زندگي کو جس نظر سے ديکھتے تھے اور عزت و وقار کو  برقرار رکھنے کے جس حد تک قائل تھے واقعہ کربلا ان کي ايسي خوبيوں کا جلوہ گر ہے -  دشمن حضرت امام حسين عليہ السلام کو کہتا تھا کہ

" يا ذلت کے ساتھ بيعت کے ليۓ ہاتھ آگے کرو اور يا مرنے کے ليۓ تيار ہو جاؤ "

حوالہ جات :

1- شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد ج 3 ، ص 249

2- مناقب ابن شھر آشوب ، ج 4 ، ص 68

----------------

رسول الله(صلى الله علیه وآله)

مَنْ سَمِعَ رَجُلاً یُنٰادِی یٰا لَلْمُسْلِمِینَ فَلَمْ یُجِبْہُ فَلَیْسَ بِمُسْلِمٍ

اگر کوئی شخص مسلمان کو مدد کے لئے پکارے اور

مسلمان اس کی مدد نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں

کافی،ج/۲، ص/۱۶۳

----------

امام رضا علیہ السلام

 کے منتخب اقوال

آنحضرت کا کالم ایمان کے ارکان کے متعلق

ایمان کے چار ارکان ہیں خداپر توکل، قضائے الٰہی کے ساتھ راضی ہونا،

 خدا کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، تمام امور اُس کے سپرد کردینا

 (تحف العقول:۴۴۵، بحارالانوار:ج۷۸،ص۳۳۸)

آنحضرت کا فرمان موٴمن افراد کی صفات میں

کسی موٴمن میں ایمان کی حقیقت پیدا نہیں ہوسکتی جب تک اُس میں تین

اوصاف نہ ہوں: خدا کی سنت، رسول کی سنت اور اُس کے امام کی سنت

خدا کی جو سنت اُس میں ہونی چاہئے، وہ رازداری ہے اُس کے رسول کی

سنت لوگوں کے  ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا اور اُس کے امام کی

سنت یہ ہے کہ مصائب اور تکالیف میں صبر رکھتا ہو

(تحف العقول:۴۴۲، بحارالانوار:ج۷۸،ص۳۳۴)

آنحضرت کا فرمان موٴمن افراد کی صفات میں

موٴمن جب غصے میں آتا ہے، غصہ اُس کو راہِ حق سے خارج نہیں کرتا جب وہ

خوش ہوتا ہے تو خوشی اُس کو باطل میں داخل نہیں کرتی اور جب طاقت و

 قدرت ہوتی ہے  تو اپنے حق سے زیادہ طلب نہیں کرتا

(عددالقویة:۳۰۰،بحارالانوار:ج۷۸،ص۳۵۲)

 

اصول عقاید

 

توحید
عدل
نبوت
امامت
قیامت
 

  E-mail:Info@S-A-Khatami.com             Copyright 2007 ALMAREFAT.IR. All rights reserved.

  فارسی     العربیه      اردو      English